بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے
اور تمہارے ربّ نے فرمایا تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا
اپنے ربّ کو گڑ گراتے ہوئے اور چپکے چپکے پکارو
یقینااگر تم شکر ادا کرو گے تو تمہیں اور زیادہ دوں گا
اے ہمارے پروردگار! اگر ہم سے کوئی بھول چوک ہو جائے تو ہماری گرفت نہ فرما
جامعہ تحفیظ القرآن
جامعہ تحفیظ القرآن کی بنیاد 1985میں مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی ؒ کے دست مبارک سے رکھی گئی یہ گول مارکیٹ ناظم آباد میں واقع ہے اس ادارہ کے قیام کا مقصد دینی تعلیم کو وقت کے تقاضوں کے مطابق دینا ہے ۔گزشتہ 37 سال سے انتظامیہ اور ٹرسٹی حضرات ہمارے مقصد کے حصول کیلئے دن رات کوشاں ہیں ،انتظامیہ کے باصلاحیت افراد اور قابل اساتذہ کرام کی جماعت نت نئے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتی ہے ۔درجہ ذیل رپورٹ ہماری کامیابی ، حاصل کردہ اہداف اور مستقبل کے مقاصد و چیلینجز کی عکاس ہے
ترجیحات
عصری و دینی علوم کے امتزاج سے ہماری آئندہ آنیوالی نسلوں کو اس طرح تیار کرنا کہ وہ زمانہ کی قیادت مکمل قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ کر سکیں ہماری اولین ترجیح ہے ۔
مشن
مدارس کے طلباء کرام کو معیاری تعلیم و تربیت سے مزین کرنا ہمارا مشن ہے۔
دار الافتاء
ہمارے جامعہ میں لوگوں کی دینی و دنیوی رہنمائی کے لیے گزشتہ تیس سال سے دار الافتاء کا شعبہ اپنی خدمات انجام دے رہا ہے، ماہر اور تجربہ کار مفتیان کرام دن رات لوگوں کی رہنمائی کے لیے دستیاب رہتے ہیں جامعہ کی ویب سائیٹ پہ آن لائن فتویٰ معلوم کرنے کی سہولت بھی موجود ہے جسکی بدولت مناسب وقت میں لوگوں کو رہنمائی میسر ہے اور لوگوں کی دینی و دنیوی ضروریات میں انکی رہنمائی کے لیئے ایک مناسب پلیٹ فارم بحمد اللہ ہمارےجامعہ میں موجود ہے۔
کتب خانہ
تقریباً دو ہزار سے زائد کتابوں پر مشتمل کتب خانہ اساتذہ کرام و طلباء کرام کے استفادہ کے لیئے جامعہ کی جانب سے مہیا کیا گیا ہے جس سے اساتذہ و طلباء بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں اہلیان علاقہ میں اگر کسی کو بھی ضرورت ہو تو وہ بھی کتب خانہ سے فیضیاب ہو سکتے ہیں۔
طلباء کرام کا کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا
جامعہ کا ایک نمایاں کارنامہ یہ بھی ہے کہ یہاں تمام طلباء کرام کا کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا نہ صرف محفوظ رکھا جاتا ہے بلکہ اسکو ہر سال نئے سال کے نظم کے مطابق اپڈیٹ بھی کیا جاتا ہے ،جس میں بچوں کی تعلیمی کارکردگی ، امتحانی نتائج ، نظم و ضبط سے متعلق رپورٹ اور بچے کی حالیہ تصویر و فنگر پرنٹ وغیرہ شام ہیں
سولرسسٹم /شمسی توانائی کی تنصیب
طلباء کرام کی سہولت اور انکے قیمتی وقت کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے مدرسہ میں سولر سسٹم کی تنصیب کی گئی ہے جس کی بدولت بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں میں خاطر خواہ کمی کے ساتھ ساتھ جامعہ بجلی کی چوبیس گھنٹہ بلاتعطل فراہمی میں بھی خود کفیل ہو گیا ،وقت بے وقت بجلی جانے کی وجہ سے جو حرج ہوا کرتا تھا مذکورہ سسٹم کی تنصیب سے اسکی بھی تلافی ہو گئی –
گرل کی تنصیب
طلباء کرام کی حفاظت کے پیش نظر بالکونیوں اور راہداریوں کے اطراف میں گرل لگائی گئی ہے جس کی بدولت حفاظت کے ساتھ ساتھ مدرسہ کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔
پانی کے لیے بورنگ
پانی کی ضروریات کے پیش نظر جامعہ میں بورنگ کروائی گئی جسکی بدولت پانی کی قلت کی شکایت بھی دور ہو گئی اور طلبا ءو نمازیوں کو بھی بہت سہولت ہوگئی ۔
واشنگ مشین
انسان کو ہمیشہ صاف ستھرا رہنا چاہیئے اور صاف ستھرا رہنے کے لیے کپڑوں کی صفائی ستھرائی نہایت ضروری ہے، اس مقصد کے لیے جامعہ نے طلباء کرام کی سہولت کیلئے آٹومیٹک واشنگ مشینیں لگائیں ہیں تاکہ کم سے کم وقت اور محنت میں طلباء کرام کے کپڑوں کی دھلائی ہو سکے اورطلباء اپنے قیمتی اوقات کو زیادہ سے زیادہ اپنی پڑھائی پر صرف کر سکیں ۔
طلباء کرام کے لیئے خطابت اور تقریری سر گر میوں کا فروغ
جو علم ہم سیکھیں اس علم کو دوسروں تک پہنچانابھی ہماری ذمہ داری ہے اسی ذمہ داری کے احساس کو نظر میں رکھتے ہوئے جامعہ کی جانب سے اپنے طلباء کرام کے لیے تقریری مقابلوں کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ طلباء کرام اپنے مافی الضمیر کا اظہار موثر انداز میں کسی بھی مجمع کے سامنے کر سکیں ان تقریری مقابلوں سے طلباء کر ام کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے اور اپنا پیغام موثر الفاظ میں دوسروں تک پہنچانے کی بہم مشق انہی مقابلوں کے ذریعے کی جاتی ہے ۔
طلباء کرام کی حوصلہ افزائی
دوران طالب علمی اہم شخصیات سے ملاقات کر نا بہت حوصلہ افزائی کا باعث ہوا کرتا ہے اس سے علم و عمل کی نئی راہیں کھلتی ہیں ،حوصلہ پروان چڑھتا ہے اور نئے جوش و ولولہ کے ساتھ طالب علم مزید بہتر سے بہتر کی کوشش میں لگ جاتا ہے ،اس کاوش کے تحت جامعہ میں سعودیہ کے قونصل جنرل صاحب کی تشریف آوری ہوئی اور جامعہ کے طلباء کرام کے ساتھ انکی ملاقات سے نہ صرف یہ کہ طلباء کرام کو بہت فائدہ ہوا بلکہ معزز مہمانوں کی خوشی بھی قابل دید تھی۔ معزز مہمانان گرامی مدرسہ کے طلباء کرام سے مل کر بہت خوش ہوئے انکی حوصلہ افزائی فرمائی اور ان سے خطاب بھی فرمایا۔





