فتویٰ نمبر: 134 | تاریخ: 30-08-2026
موضوع / عنوان: جس عورت کو دودھ نہ آتا ہو بچہ کا اس کے پستان کو منہ میں لینے سے حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوتی

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بچہ نے ن...

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بچہ نے نانی کا دودھ پی لیا۔اب اس بچہ کے چھوٹے بھائی نے نہیں پیا ہے۔لیکن اس چھوٹے بچہ نے اسکے پستان منہ میں لیا ہے۔لیکن اس وقت پستان منہ میں نہیں تھا۔اب اس چھوٹے بچہ کا اپنے ماموں کے بیٹے یا بیٹی سے شادی جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب وباللہ التوفیق: اد رہیکہ کہ جس عورت کو دودھ نہ آتا ہو بچہ کا اس کے پستان کو منہ میں لینے سے حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوتی ہے۔لہٰذا اگر حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہوتو مذکورہ بچے اور بچی کے درمیان نکاح درست ہے۔
(ويثبت به) ولو بين الحربيين بزازية (وإن قل) إن علم وصوله لجوفه من فمه أو أنفه لا غير، فلو التقم الحلمة ولم يدر أدخل اللبن في حلقه أم لا لم يحرم لأن في المانع شكًّا، ولوالجية.(قوله: فلو التقم إلخ) تفريع على التقييد بقوله إن علم. وفي القنية: امرأة كانت تعطي ثديها صبية واشتهر ذلك بينهم ثم تقول لم يكن في ثديي لبن حين ألقمتها ثدي ولم يعلم ذلك إلا من جهتها جاز لابنها أن يتزوج بهذه الصبية. اهـ. ط. وفي الفتح: لو أدخلت الحلمة في في الصبي وشكت في الارتضاع لا تثبت الحرمة بالشك (فتاوٰی شامی 3 / 212)
[/ar]
33562 33