Jamia Tahfeez-ul-Quran Jamia Tahfeez-ul-Quran

آن لائن دارالافتاء و تعبیرِ خواب پورٹل

جامعہ تحفیظ القرآن کے مستند مفتیانِ کرام اور علمائے دین کی زیرِ نگرانی شرعی مسائل کا حل اور خوابوں کی تعبیر معلوم کریں۔

تازہ ترین فتاوی تازہ ترین فتاوی

مزید فتاویٰ دیکھیں
معاملات

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں : مجھے حکومتِ پاکستان کی "میرا گھر میرا آشیانہ" ہاؤسنگ اسکیم کے تحت ایک اسلامی بینک سے گھر کی فنانسنگ لینے کا ارادہ ہے۔ اس حوالے سے چند شرعی رہنمائی درکار ہے۔ اس اسکیم میں ابتدائی 10 سال تک حکومت کی جانب سے سبسڈی کے باعث تقریباً 5% شرح پر اقساط ادا کرنی ہوتی ہیں، جبکہ اس کے بعد باقی مدت کے لیے شرح KIBOR + 3% کے مطابق ہو جاتی ہے۔ براہِ کرم درج ذیل سوالات کے واضح، الگ الگ اور براہِ راست جواب عنایت فرمائیں: کیا اس اسکیم کے تحت اسلامی بینک سے گھر کی فنانسنگ لینا شرعاً جائز (حلال) ہے؟ ابتدائی 10 سال کے بعد جب شرح KIBOR + 3% کے مطابق ہو جائے، تو کیا اس مدت کی فنانسنگ بھی شرعاً جائز اور حلال رہے گی؟ کیا KIBOR کو صرف قیمت یا کرایہ کے تعین (Benchmark) کے طور پر استعمال کرنا شرعاً درست ہے، یا اس کی وجہ سے معاملہ سود کے زمرے میں آ جاتا ہے؟ اگر KIBOR میں کمی یا اضافہ ہو اور اس کے مطابق اقساط بھی تبدیل ہوں، تو کیا یہ شرعاً جائز ہے؟ کیا اس اسکیم کے تحت حاصل کی گئی فنانسنگ ابتداء سے اختتام تک مکمل طور پر حلال شمار ہوگی، یا ابتدائی 10 سال کے بعد اس کی شرعی حیثیت میں کوئی تبدیلی آ جاتی ہے؟ براہِ کرم اپنے جواب کے ساتھ قرآن و سنت، معتبر فقہی مراجع، یا معاصر مفتیانِ کرام کے دلائل بھی ذکر فرما دیں تاکہ مکمل اطمینان حاصل ہو سکے۔ جزاکم اللہ خیراً، اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین جزا عطا فرمائے۔

الجواب حامداً و مصلیاً [ur]واضح رہے کہ عام طورپر اسلامی بینک ہاؤس فائنانسنگ شرکت متناقصہ کی بنیادپر کرتاہےکہ ابتداء میں کلائینٹ اور بینک مل کر گھر خریدتے ہیں اور اس کے بعد بینک اپناحصہ کرایہ پر کلائینٹ کو دیدیتاہے اور کرایہ کےلیے کائیبور کو بنیاد بناتاہے...