فتویٰ نمبر: 157 | تاریخ: 13-09-2026
موضوع / عنوان: صرف زبانی نام کرنے سے ہبہ تام نہیں ہوتا

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں:

سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں:
(۱)۔میرے والد کے دو پلاٹ ہیں سرجانی میں اس کی قیمت انتہائی معمولی بمشکل پانچ، دس لاکھ ہوگی۔والدین دونوں کا انتقال ہوچکاہے ہم دو بہنیں اور ایک بھائی ہے۔ جب یہ پلاٹ لیے گئے تھے تو والد نے کہا تھا کہ ایک پلاٹ ایک بیٹی کا اور دوسرا دوسری بیٹی کو دینا تھا تحفہ میں یہ انہوں نے زبانی بولا تھا لیکن میرے والدین کو مہلت نہی ملی ، آپ بتائیں یہ دونوں پلاٹ ہم دونوں بہنیں بانٹ لیں یا پھر بھائی کو بھی حصہ دیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔میری بہن کا کہنا ہے کہ والد نے یہ پلاٹ تحفے میں ہمیں دیا تھا اس پر ان بھائی کا کوئی حصہ نہیں ہےلیکن والد نے زبانی بولا تھا پھر ان کا انتقال ہوگیا، آ پ بتادیں کہ بھائی کو حصہ دینا ہے یا نہیں؟
(۲)۔آیا ہم اس پلاٹ کے برابر حصے کرسکتے ہیں کہ اس کے تین حصے کرکے تینوں آپس میں تقسیم کرلیں۔
الجواب وباللہ التوفیق: واضح رہے کہ انسان کا اپنی زندگی میں اپنی جائیداد میں سے کسی کو کچھ دینا ہبہ (گفٹ) کہلاتا ہے، اور ہبہ (گفٹ) کے مکمل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ واہب (ہبہ کرنے والا) موہوبہ چیز (جس چیز کا ہبہ کیا جارہاہے) کو موہوب لہ (جس کو ہبہ کررہا ہے) کے نام کرنے کے ساتھ اس کا مکمل قبضہ اور تصرف بھی دے دے، اور ہبہ کے وقت موہوبہ چیز سے اپنا تصرف مکمل طور پر ختم کردے، ورنہ شرعاً ہبہ درست نہیں ہوتا،لہذا صورتِ مسئولہ سے معلوم ہورہا ہے کہ والد مرحوم نے اپنی چاہت کا اظہار کیا تھا لیکن بیٹیوں کو پلاٹ دیا نہیں تھا اس لیے یہ پلاٹ تینوں بہن بھائیوں میں ان کے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا ۔جس کی تفصیل یہ ہے کہ پلاٹ یا اس کی قیمت کے کل چار حصے کرلیے جائیں ان میں دو حصے مرحوم کے بیٹے کو جبکہ ایک ایک حصہ مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو دے دیے جائیں۔
اگر صورت اس کے برعکس ہو یعنی والد مرحوم نے دونوں پلاٹ ہر ایک بیٹی کو مکمل قبضہ اور تصرفات کے ساتھ دے دیے ہوں تو پھر دونوں بیٹیاں پلاٹ کی مالکہ ہوں گی اوراس میں بھائی کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
(۲)۔ واضح رہے کہ میراث میں اصل یہ ہے کہ مورث کی وفات کے بعد اس کے تمام ورثاءکے درمیان ترکہ کو شرعی حصوں کےمطابق تقسیم کیا جائے،تا کہ بعد میں کسی کو کسی پرا عتراض نہ ہو،البتہ اگر مورث کی وفات کے بعد ورثاء باہم رضامندی یعنی مصالحت سے ترکہ کو تقسیم کرنا چاہیں تو تقسیم کرسکتے ہیں بشرطیکہ سب ورثاء عاقل بالغ ہوں البتہ مصالحت کے بعد ہر وراث اپنے حصے پر قبضہ کرلے ۔
فتاویٰ عالمکیریه: (4/478 رشیدیه)
لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7 / 19):
"وقسمة رضا: وهي التي يفعلها الشركاء بالتراضي."
39151 174