موضوع / عنوان: ساس کو فون کرکے کہا کہ میں نے آپ کی بیٹی کو چھوڑدیا
کیا فرماتے ہیں علماء کرام کہ اس مسئلہ کے بارے میں کہ مرد نے اپ...
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء کرام کہ اس مسئلہ کے بارے میں کہ مرد نے اپنی بیوی کو اس طرح طلاق دی کہ اپنی ساس کو فون کرکے کہا کہ میں نے آپ کی بیٹی کو چھوڑدیا ہے۔اور تین مرتبہ طلاق دیدی۔چھڑدیا ہے کے بعد صراحتاً تین طلاقیں دی ہیں۔اس کا کیا حکم ہے؟اور کیا حلالہ کرکے دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں؟ اور بچے کس کی پرورش میں رہینگے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
عدت گذرنے کے بعد مذکورہ خاتون اپنی مرضی سے نکاح کرلے اور شوہر کا حقوق زوجیت ادا کرنے کے بعد انتقال ہو جائے یا طلاق دیدے،عدت گذرنے کے بعد مذکورہ خاتون دوبارہ اپنے سابقہ شوہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں نیا مہر مقرر کرکے عقد نکاح کرسکتی ہے۔البتہ حلالہ ہی کی نیت سے نکاح کرنے والے مرد اور عورت پر اللہ کے رسول ﷺ نے لعنت بھیجی ہے۔اس لئے شرعاً حلالہ کرنے کے لئے نکاح کرنا بڑا گناہ ہے۔
بعد بچے کو اختیار ہو گا جس کے ساتھ رہنا چاہیں رہ سکتے ہیں۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
و إن کان الطلاق ثلاثًا في الحرۃ و ثنتین في الأمة، لم تحلّ له حتی تنکح زوجًا غیرہ نکاحًا صحیحًا، و یدخل بھا، ثم یطلقھا أو یموت عنھا(الباب السادس في الرجعة، فصل فیما تحل به المطلقة، کتاب الطلاق، ص: المجلد الاول، مکتبہ رشیدیہ)
مسند احمد میں ہے:
عن أبي هريرة قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المحل والمحلل له۔ (266/8)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدةً أو فاجرةً غير مأمونة، كذا في الكافي ... وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجةً بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة ... والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني، وقدر بسبع سنين، وقال القدوري: حتى يأكل وحده، ويشرب وحده، ويستنجي وحده. وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين، والفتوى على الأول. والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض. وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى -: إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق، وهذا صحيح. هكذا في التبيين... وإذا وجب الانتزاع من النساء أو لم يكن للصبي امرأة من أهله يدفع إلى العصبة فيقدم الأب، ثم أبو الأب، وإن علا۔(541/1)
بعد بچے کو اختیار ہو گا جس کے ساتھ رہنا چاہیں رہ سکتے ہیں۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
و إن کان الطلاق ثلاثًا في الحرۃ و ثنتین في الأمة، لم تحلّ له حتی تنکح زوجًا غیرہ نکاحًا صحیحًا، و یدخل بھا، ثم یطلقھا أو یموت عنھا(الباب السادس في الرجعة، فصل فیما تحل به المطلقة، کتاب الطلاق، ص: المجلد الاول، مکتبہ رشیدیہ)
مسند احمد میں ہے:
عن أبي هريرة قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المحل والمحلل له۔ (266/8)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدةً أو فاجرةً غير مأمونة، كذا في الكافي ... وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجةً بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة ... والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني، وقدر بسبع سنين، وقال القدوري: حتى يأكل وحده، ويشرب وحده، ويستنجي وحده. وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين، والفتوى على الأول. والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض. وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى -: إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق، وهذا صحيح. هكذا في التبيين... وإذا وجب الانتزاع من النساء أو لم يكن للصبي امرأة من أهله يدفع إلى العصبة فيقدم الأب، ثم أبو الأب، وإن علا۔(541/1)