فتویٰ نمبر: 104 | تاریخ: 16-08-2026
موضوع / عنوان: طلاق لیٹر کے ذریعہ طلاق کا وقوع

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں: میری بھانجی ...

سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں: میری بھانجی ہے، وہ دبئی میں رہتی تھی شادی پاکستان میں ہوئی تھی وہاں جاکر زوجین کی آپس میں بنی نہیں۔ پھر شوہر نے اسے چھوڑ دیا، پھرپاکستان سے جاکر میری بہن اسے لے آئی ، پاکستان پہنچ کر اسے طلاق کا لیٹر ملا، آپ بتائیں طلاق ہوئی یا نہیں ہوئی میں یہ لیٹر درخواست کے ساتھ منسلک کررہا ہوں۔عدت کا وقت کتنا ہوگا۔
الجواب وباللہ التوفیق: مذکورہ صورت میں منسلکہ لیٹر کی رو سے سائل کی بھانجی پرتینوں طلاقیں واقع ہوکر دونوں کا نکاح ٹوٹ چکا ہے، اور دونوں کے درمیان حرمتِ مغلظہ قائم ہوچکی ہے، اب رجوع بھی جائز نہیں ہے اور دوبارہ نکاح کر کے ساتھ رہنا بھی جائز نہیں ہے، عدت (تین ماہواری بشرطیکہ حمل نہ ہو) گزارنے کے بعد خاتون کسی بھی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو گی۔
اگرمذکورہ عورت عدت گزارنے کے بعدکسی دوسرے شخص سے نکاح کرلے، پھر اس دوسرے شوہر سے ازدواجی تعلق قائم ہونے کے بعد اس دوسرے شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ طلاق دے دے تو پھر اس دوسرے شوہر کی عدت گزارنے کے بعد مذکورہ عورت کا سابقہ شوہر کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہوگا۔
فتاوی عالمکیریه (1/473):
وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃو ثنتین فی الامۃ لم تحل له حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا

26272 23