فتویٰ نمبر: 130 | تاریخ: 29-08-2026
موضوع / عنوان: میراث موجودہ قیمت کے اعتبار سے تقسیم کی جائے گی

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے سسر کا ...

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے سسر کا انتقال2004میں ہوا،وارثین میں بیوہ ،تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔جس وقت مرحوم کا مکان فروخت ہوا اس وقت بھائیوں نے کہا کہ ہم بہنوں کا حصہ (چونکہ اس وقت کی ویلیو کے اعتبار سے دو لاکھ بن رہا تھا ) بعد میں دیں گے۔اور فروحت کر کے دوسرا مکان لے لیا تھا اب تک حصہ نہیں دیا تو اب مکان کی ویلیو بڑھ گئی ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ میری بیوی یعنی مرحوم کی بیٹی کا حصہ اس وقت کے حساب سے ہوگا یا آج کی ویلیو کے حساب سے ہوگا؟
الجواب وباللہ التوفیق: یہ بات خوب سمجھ لینی چاہیئےکہ والد کے ترکہ میں تقسیم کرنے سے پہلےجتنی تبدیلی آجائیگی میراث اسی حساب سے تقسیم کی جائے گی۔لہٰذا صورتِ مذکورہ میں میراث موجودہ قیمت کے اعتبار سے تقسیم کی جائے۔انیس لاکھ میں بہنوں کو دو لاکھ مل رہے تھے ۔اب انیس لاکھ کا اعتبار نہیں ہو گا۔بلکہ جتنی قیمت کا مکان بیچ کر آپ کے سسر کے پیسوں کے اعتبارسے حصہ بنے گا میراث اسی میں تقسیم ہوگا۔
فإذا كان سعيهم واحداً ولم يتميز ما حصله كل واحد منهم بعمله يكون ما جمعوه مشتركاً بينهم بالسوية(شامی307/4)
32590 215