فتویٰ نمبر: 167 | تاریخ: 17-09-2026
موضوع / عنوان: حقوق العباد نوافل اور صدقات سے معاف نہیں ہوتے

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے بھائی ک...

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے بھائی کے انتقال ہوئے بیس دن ہو گئے۔ان پر بہت سے قرضے تھے۔کیونکہ ان کی زندگی میں ان کلی کوئی خاص جاب نہ تھی،میرا دوسرا بھائی ہی مدد کرتا تھا۔جس سے زندگی بسر ہو رہی تھی۔کوئی اولاد بھی نہیں ہے۔ایک قرض والے نے آکر بتایا تو ہماری بہن نے قرضہ پورا کردیا ۔لیکن اگر جو اور قرضے ہیں،اگر دوسرے بہن بھائیوں سے کہیں تو دینے کو تیار ہوں یہ نہیں۔کیونکہ زیادہ تر ملازم پیشہ لوگ ہیں۔صرف ایک بہن ہے جس نے ابھی یہ قرضہ پورا ادا کیا ہے۔اورصرف ایک بھائی جو میری بھائی کی زندگی میں ہی گذر بسر کروا رہا تھا۔ابھی بھی بھابھی کی مدد کر رہا ہے۔باقی بہن بھائی اتنے امیر نہیں کہ اور قرضے پورے کرسکیں۔اب مفتی صاحب آ پ سے سوال اتنا ہےکہ جو باقی قرضے رہ گئے ہیں،اگر ہم بہن بھائی اداء نہ کرسکیں اور میرے بھائی پر عذاب قبر نہ ہوقرضہ پورا کرنے کی وجہ سے،اللہ تو رحیم ہے اسے معاف کردے۔اللہ کی طرف سے اپنے بھائی کی طرف سے کوئی ایسا کلام الہٰی یا کوئی ایسے نوافل بتادیں،تا کہ اللہ کا قہر ٹھنڈا ہو جائے۔ اور میرے بھائی پر قبر میں کوئی عذاب نازل نہ ہو۔اللہ س پر اپنا رحم لکھ دےکہ اس نے اپنی زندگی میں یہ جو قرضے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے یا زبردستی یا کسی مجبوری میں لئے تھے،اللہ اسکے قرضے کو معاف کردے۔اگر ہم بہن بھائی مزید ادا نہ کرسکیں اللہ ہمیں بھی معاف کردے۔مفتی صاحب آ پ کوئی کلام الٰہی یا نفل بتا دیں تو وہ کتنے دن پڑھے جائیں ؟اور ہم میں سے کوئی بھی بہن بھائی پڑھ سکتا؟تا کہ میرا بھائی اللہ کے عذاب سے بچ سکے۔ بہت پریشانی ہے اس مسئلہ کا حل بتادیں۔
الجواب وباللہ التوفیق: یہ بات سمجھنی چاہیئےکہ حقوق العباد نوافل اور صدقات سے معاف نہیں ہوتے۔دو طریقوں سے معاف ہوتے ہیں۔(۱)ادائیگی سے۔(۲)صلح سے کہ جس نے بھجی قرض دیا ہے، اس کےپاس جاکر صلح کرلیں کہ اس پر جو پرا قرض ہے ہم ادا نہیں کر سکتے،کچھ ہم ادا کریں گے ،کچھ آ پ معاف کریں ،یا پورا قرض ہی معاف کروالیں۔اس کے علاوہ اللہ کے دربار میں ضرور پوچھا جائیگا۔
صحیح بخاری میں ہے:
عن ‌أبي هريرة رضي الله عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم «كان يؤتى بالرجل المتوفى عليه الدين، فيسأل: هل ترك لدينه فضلا، فإن حدث أنه ترك لدينه وفاء، صلى، وإلا قال للمسلمين: صلوا على صاحبكم. فلما فتح الله عليه الفتوح، قال: أنا أولى بالمؤمنين من أنفسهم، فمن توفي من المؤمنين فترك دينا، فعلي قضاؤه، ومن ترك مالا فلورثته
كتاب الكفالة، باب الدين، ج:3، ص:97، ط:دار طوق النجاة
41581 94