فتویٰ نمبر: 185 | تاریخ: 05-10-2026
موضوع / عنوان: انعامی بانڈ کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام "انعامی بانڈ" کے بارے میں ؟ جس کی تفصیل یہ ہے کہ زید اسٹیٹ بینک سے دو سوروپے کا انعامی بانڈ خرید تے ہیں پھر مہینے دو مہینے کے بعد قرعہ اندازی ہوتی ہے جس میں زید کے ہزاروں روپے انعام نکل آتے ہیں آیا زید کے لئے یہ پیسے لینا جائز ہے یا نہیں ۔
نوٹ:زید یہ انعامی بانڈ اپنی مرضی سے واپس بھی کرسکتا ہے ۔
الجواب وباللہ التوفیق: واضح رہے کہ انعامی بانڈ سود اور جوا دونوں کا مجموعہ ہے اس لئے قطعاً ناجائز اور حرام ہے کیونکہ اس میں کم قیمت کے بانڈ کے بطورِ انعام کے کثیر رقم بلا معاوضہ دی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس میں انعام ملنے اور نہ ملنے دونوں کااحتمال ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ سود اور جوا دونوں کا مجموعہ ہے اور سود اور جوا دونوں کی حرمت نصِ قطعی سے ثابت ہے ۔
ارشادِ ربّانی ہے :
{وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا } [البقرة : 275]
اوراللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کردیا ہے ۔
لہذا بانڈ کا انعام لینا ناجائز ہے اس کو اسی قیمت پر واپس کردیا جائے اس پر نفع نہ کمایا جائے اور آئندہ ایسی چیزوں سے اجتناب کیا جائے ۔
45955 150