فتویٰ نمبر: 168 | تاریخ: 17-09-2026
موضوع / عنوان: مرحوم کے ترکہ میں تمام بیٹوں کا حصہ ہے

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے داد نے ...

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے داد نے کچھ جائیداد خریدی ۔جس میں سے دو تین پلاٹس پہلے میرے داد کی وفات کے بعد میرے تیسرے نمبر کے چچا رفیق عبد الرحیم نے فروخت کردیئے تھے۔اور اس کی قیمت کچھ گھر پر اور کچھ کاروبار وغیرہ پر لگ گئی۔اور اسکا کوئی حساب کسی کے پاس نہیں۔رفیق صاحب کے انتقال کے بعد سب بہن بھائیوں نے انہیں معاف کردیا ۔اور ان کے بچوں سے کوئی حساب نہیں لیا۔اب صرف ایک گھر جو 250 گز پر مشتمل ہے۔جہاں چاروں بھائیوں کی فیملیز رہائش پذیر ہیں۔اسکا فیصلہ باقی ہے۔اس گھر میں تمام بہن بھائی حصہ دار ہیں۔داد کے انتقال کو 50سال کا عرصہ ہو گیا ہے۔دادی کا بھی انتقال ہو گیا ہے۔پر کسی نے وراثت تقسیم نہیں کی۔اسلئے مجبوراً ساری بہنیں اپنا حصہ مانگ رہی ہیں۔اس بلڈنگ میں نیچے دکانیں بھی تعمیر کی گئیں۔جوچاروں بھائیوں نے اپنی مرضی سے بانٹ لی تھیں ۔کسی نے پیسے لے لئے اور سکی نے دکانیں پگڑی پر دیکر کرایہ وصول کیا ۔اور ایک نے اپنے استعمال میں لیکر اپنا کاروبار شروع کیا ۔اب مسئلہ یہ ہیکہ جو باہر کے لوگ پگڑی پر دکانیں لیکر بیٹھے ہوئےہیں،وہ عدالت کے ذریعے دکان خالی کریں گے۔لیکن جو دو بھائیوں یعنی یوسف اور اسلم کے پاس جو دکانیں ہیں وہ اسکی قیمت لگا رہےہیں۔بلڈنگ فروخت کرنے کے بعدایک دکان کے 8 لاکھ روپےدینے کے بعد بات چیت ہوئی۔اس ڈیمانڈ کو اسلم عبد الرحیم نے قبول کرلیا ۔لیکن یوسف عبد الرحمیم کی فیملی 80لاکھ مانگ رہے ہیں۔اب میرا سوال یہ ہے کہ ان دکانوں کی شرعی طور پر کیا حیثیت ہے؟کیا یہ دونوں بھائی ان دکانوں کے مالک ہیں؟اور ان کو اسکی رقم دینی چاہیئے یا نہیں؟کیونکہ ان دکانوں کو بھائیوں نے اپنی مرضی سے بانٹ لیا ۔اور بھائیوں نے 40 سال سے اسکا کرایہ بھی لیا۔اس میں کسی بہن کو کچھ نہیں دیا گیا۔صرف دادی کی فیملی کو کرایہ کو کچھ حصہ ہر مہینے ادا کیا گیا ۔اب یوسف عبد الرحیم کے بیٹوں کو کوئی بھی بھائی بہن دکان کی 80لاکھ قیمت دینے کے لئے تیار نہیں۔کیونکہ سب کے حصے میں بڑی رقم کٹ جائیگی۔اور مکان کی فائل بھی یوسف عبد الرحیم کی فیملی پاس رکھے ہوئے ہیں۔جبکہ کاغذات میرے والد یعقوب عبد الرحیم کے نام پر ہیں۔اور میری والدہ یہ بلڈنگ بیچ کر سب کو حصہ دینا چاہتی ہیں۔آپ براہ کرم دکانوں کے معاملہ میں ہماری رہنمائی فرما کر اس مسئلہ کو حل بتادیں ،کہ دکا نوں کی قیمت کسی کو بھی ملنی چاہیئے؟یا صرف اس پلاٹ یا گھر کی زمین کی قیمت وصول کرکے سب کو شرعی حساب سے حصہ دیا جائے۔نیز یہ کہ یہ میرے داد کی جائیداد ہےتو اس میں انکے بیٹوں کی اولاد کا حصہ بنے گا؟یا بیویوں کا بھی حصہ بنے گا؟ دادا مرحوم کے وارثین میں سے 4 بیٹے اور 7 بیٹیاں ہیں۔ کوئی بھی بیٹا زندہ نہیں ہے۔
الجواب حامداًومصلیاً
الجواب وباللہ التوفیق: یہ بات خوب سمجھنی چاہیئے کہ دا دا مرحوم کے ترکہ میں تمام بیٹوں کا شرعی حصہ مقرر ہے خواہ دکانوں کی شکل میں ہو یا کسی اور شکل میں ۔اسلئے مذکورہ بلڈنگ کی دکانوں اور فلیٹوں میں تمام ورثا ء کا حق موجود ہے۔تاہم صلح کرکے کسی کو کچھ دینا کسی کو کچھ اور دینابھی شرعاً جائز ہے۔البتہ داد کے انتقال کے وقت جو بیٹے حیات تھے ان کی بیویوں اور ان کی اولاد کو شرعاً حصہ دیا جائے
فتاوی شامی میں ہے:
(أخرجت الورثة أحدهم عن) التركة وهي (عرض أو) هي (عقار بمال) أعطاه له (أو) أخرجوه (عن) تركة هي (ذهب بفضة) دفعوها له (أو) على العكس أو عن نقدين بهما (صح) في الكل صرفا للجنس بخلاف جنسه ۔۔۔۔ ( كتاب الصلح، فصل في التخارج، ٥ / ٦٤٢، ط: دار الفكر)
41824 111