فتویٰ نمبر: 186 | تاریخ: 05-10-2026
موضوع / عنوان: والدین اور اولاد کے حقوق

عرض یہ ہے کہ آج کے اس دور میں جہاں بے شمار مسائل ہیں وہاں وال...

سوال: عرض یہ ہے کہ آج کے اس دور میں جہاں بے شمار مسائل ہیں وہاں والدین اور اولاد کے درمیان بھی کئی قسم کے مسائل ہیں کہیں والدین اولاد سے پریشان ہیں تو کہیں اولاد والدین سے پریشان ہے بعض جگہ والدین اس قدر زیادتی نا انصافی بے رحمی بد سلوکی تذلیل کی اس قدر حد کر رہے ہیں کہ اولاد کی اپنی زندگی جو آخرت کے اعتبار سے دنیا کے اعتبار سے ذہنی صلاحیتیں اور ذہن کی نشو نما قوت اور حافظا اور یکسوئی والا ذہن جب مستقل ایک الجھے ہوئے خوف میں ہر وقت منتشر رہے اور دل مسلسل بے قرار اور بے چین اور ڈوبارہے اور جسم اس قدر کمزور پڑ جائے کہ نہ شادی کے قابل رہے نہ کمانے کے قابل رہے نہ محنت ومشقت برداشت کر سکے اور اس کی عزت جگہ جگہ خراب کی جائے اور دیگر اولاد اتنا کچھ مسلسل سہنے اور اپنی زندگی سے بیزار ہوجانے کے بعد متنفر ہوجا نے کے بعد زندگی اور موت کے درمیان ہر وقت لٹکی رہنے والی زندگی کی چکی میں پستے چلے جانے اور دبے چلے جانے اور اندر اندر اپنا خون کھولے چلے جانے کے بعد !!احتجاج کرے غصہ کا اظہار کرے چھوڑ کر چلے جانے کا کہے یا پھر بگڑنے لگے اس کی طبیعت اور وہ بات جس میں وہ اکتا گیا ہو اس بات پر زبردستی کی جائے زدکوب کیا جائے استطاعت سے زیادہ بوجھ لینے پر زیادہ مجبور کیا جائے اور پھر اولاد بے بس ہوکے بات ماننے سے انکار کردے ان کے تکلیف دہ مزاج کے مطابق اپنی زندگی ڈھالنے سے انکار کردے تو اسے نافرمانی کہا جائے گا؟ اسے شریعت کا حکم نہ ماننا کہا جائے گا؟ اسے حدیث کے خلاف چلنا کہا جائے گا؟اسے معاشرے میں ذلیل سمجھا جائے گا؟اسے دنیا میں ناکام اور نا مراد سمجھا جائے گا؟اور اسے یہ بات کہی جائے گی کہ قرآن میں آیا ہے کہ اُف تک نہ کہا جائے والدین جتنا مرضی ظلم کریں ان کے جھکا رہا جائے چاہے آپ کی زندگی خراب تو ہوئی جائے کیا واقعی یہ بات صحیح ہے؟میرے ان سوالوں کا جواب بہترین انداز میں دیجئے۔جزاک اللہ خیرا
والدین کو اولاد پر سو فیصد حق حاصل ہے؟کہ جوان اولاد اپنی زندگی میں اس کو کوئی حق حاصل نہیں؟چاہیں وہ قتل بھی کردیں تب بھی انہیں کوئی گناہ نہیں ؟
الجواب وباللہ التوفیق: صورت مسئولہ میں جو کچھ آپ نے استفتاء میں لکھا ہے اور ساری کوتاہیاں والد کی لکھ دی ہیں ان میں آپ کی طرف سے مبالغہ آرائی نظر آرہی ہے شریعت نے جس طرح والدین کے حقوق متعین کئے ہیں اسی طرح والدین کے ذمہ اولاد کے حقوق بھی ہیں اولاد کے ساتھ جہاں سختی کا حکم ہے وہاں اولاد کے ساتھ پیار محبت کا حکم بھی دیا گیا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے :جاء اعرابی یلی النبی ﷺ فقال اتقبلون الصبیان فما تقبلھم فقال النبی ﷺ اوا املک لک ان نزع اللہ من قلبک الرحمۃ (مشکوۃ ص ۴۲۱ ج ۲)
نبی کریم ﷺ کے پاس ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا کہ آپ بچوں کو پیار کرتے ہو ہم تو نہیں کرتے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے تیرے دل سے رحم نکال دیا ہے تو میں کیا کرسکتا ہوں ۔یہ ایک حدیث بطور مثال والدین کے لئے میں نے ذکر کی ہے ۔واقعی ہی والد ایسا ہی رویہ اختیار کرتے ہیں تو حکم یہ ہے کہ والد کو اپنے رویہ کو بدلنا چاہئے اور اولاد کو بھی والدین کی اطاعت کرنے چاہئے حقوق دونوں کے ہیں البتہ زیادہ والدین کے حقوق ہیں ایسے ظلم کے بعد بھی والدین کے سامنے بدتمیزی جائز نہیں ہوگی البتہ اگر وہ خدمت کے محتاج نہیں ہیں اور اپنا رویہ بھی بدلنے کو تیار نہیں تو ان سے جدا ہوسکتے ہیں مگر ان کی خدمت اور دعا کرتے رہیں ۔
46198 167