موضوع / عنوان: ترکہ کی رقم سے دوکان لینا
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج سے تقریبا...
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج سے تقریباً بیس سال پہلے میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا تھا۔میں والد صاحب صاحب کے ساتھ ان کی دوکان پر بیرنگ شاپ پر کام کرتا تھا۔جب والد صاحب کا انتقال ہو ا تو دوکان میں اکیلا سنبھالنے لگا۔لیکن اللہ کی مرضی سے وہ دوکان ختم ہوگئی،ور اس کے بدلے مجھے تقریباً تین لاکھ روپے ملے۔میں نے اپنی والدہ سے مشورہ کر کے ایک عدد چھوٹی دوکان اس رقم کے بدلے لےلی۔اور ایک لاکھ الگ سے اس دوکان کے کاغذات (فائل) کی مد میں دئیے۔یعنی دوکان ٹوٹل 4لاکھ روپے کی میں نے خریدی ۔آج اس دوکان کی مالیت 8 لاکھ روپے ہے۔والدین کا نتقال ہوگیا ہے۔ورثاء میں چار بھائی اور چھ بہنیں ہیں۔مذکورہ وارثین میں شرعاً تقسیم کا کیا طریقہ کار ہوگا رہنمائی فرمادیں۔
الجواب وباللہ التوفیق:
یاد رہیکہ اگر دوکان خرید تے ہوئےایک لاکھ روپے سائل نے دیگر ورثاء کی اجازت اور رضا مندی سے ملائے تھے ،تو اس صورت میں دوکان کی موجودہ مالیت کے حساب سے 6 لاکھ روپے والد کے ترکہ میں شمار کرکے تمام وارثین میں شرعی تناسب کے اعتبار سے تقسیم کئے جائیں۔
یہ بات خوب ذہن میں رہے اگر سائل نے ایک لاکھ روپے دیگر ورثاء کی اجازت اور رضامندی کے بغیر ملائے تھے ،تو سائل آٹھ لاکھ روپےمیں سے صرف ایک لاکھ روپے لے سکتا ہے۔شرعاًمنافع لینا ان کے لئے جائز نہیں۔لہٰذا اس صورت میں سات لاکھ روپے ورثا ء میں ان کے حصص کے تناسب سے تقسیم کئے جائیں گے۔
شرح المجلہ میں ہے:
اذا بذر بعض الورثۃ الحبوب المشترکۃ باذ ن الکبار او رضی الصغار تصیر تجملۃ الحاصلات مشترکۃ بینہم فی الاراضی المورثۃ اما لو بذرھا بغیر اذن بقیۃ الورثۃ فالغلۃ للزراع فقط۔(شرح المجلۃ بحوالہ کتاب النوازل ،ج18، ص189،دارالاشاعت)
یہ بات خوب ذہن میں رہے اگر سائل نے ایک لاکھ روپے دیگر ورثاء کی اجازت اور رضامندی کے بغیر ملائے تھے ،تو سائل آٹھ لاکھ روپےمیں سے صرف ایک لاکھ روپے لے سکتا ہے۔شرعاًمنافع لینا ان کے لئے جائز نہیں۔لہٰذا اس صورت میں سات لاکھ روپے ورثا ء میں ان کے حصص کے تناسب سے تقسیم کئے جائیں گے۔
شرح المجلہ میں ہے:
اذا بذر بعض الورثۃ الحبوب المشترکۃ باذ ن الکبار او رضی الصغار تصیر تجملۃ الحاصلات مشترکۃ بینہم فی الاراضی المورثۃ اما لو بذرھا بغیر اذن بقیۃ الورثۃ فالغلۃ للزراع فقط۔(شرح المجلۃ بحوالہ کتاب النوازل ،ج18، ص189،دارالاشاعت)